بھٹکل 30؍جون (ایس او نیوز) 30جون 2017کی نصف شب کو ہندوستان میں2تاریخی واقعات ہونے جارہے ہیں۔ ایک ہندوستانی ٹیکس ادائیگی قانون میں ایک انقلابی اقدام کے طور پر جاری کیا جانے والا دی گوُڈس اینڈ سروسس ٹیکس GSTکا آغاز ہونے جارہا ہے ۔دوسرا سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے محکمہ آبکاری (ایکسائز) نے نیشنل اور اسٹیٹ ہائی ویز کے قریب واقع شراب خانوں کو مکمل بند کروانے کا فیصلہ کر لیاہے۔ اس طرح عام انسانی زندگی سے وابستہ دو معاملات میں ایک معاملے کا نیا سلسلہ شروع ہورہا ہے تو دوسرے معاملے پر پابندی لگنے جارہی ہے۔
جی ایس ٹی کے نظام کو نصف شب کومرکزی حکومت کی طرف سے منعقد ہونے والے ایک پروگرام کے ساتھ نافذ کیا جائے گا۔اس طرح یکم جولائی سے ٹیکس کے اس نئے سسٹم پر عمل پیرائی شروع ہوجائے گی۔لیکن اس نئے سسٹم کے تعلق سے بہت ساری باتیں غیر واضح ہونے کی وجہ سے تاجر حضرات اور گاہک دونوں الجھنوں کا شکار ہیں۔ عام لوگوں کو اس بات کا ابھی مکمل علم نہیں ہے کہ اس نئے ٹیکس سسٹم کی وجہ سے کون کونسی چیزیں سستی ہوجائیں گی اور کون کون سی چیزیں مہنگی ہوجائیں گی۔
اسی طرح یکم جولائی سے ہائی ویز کے قریب واقع شراب کی دکانیں بند کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل بھی ۳۰ جون کی آدھی رات سے شروع ہوگا اور ضلع بھر میں ایسی 59شراب کی دکانیں بند کردی جائیں گی۔جس میں بھٹکل تعلقہ کی 4دکانیں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ کاروار میں 10، انکولہ میں 5، کمٹہ میں 11، ہوناور میں 10، سرسی ، سداپور اور منڈگوڈ میں ایک ایک، یلاپور میں6اور جوئیڈامیں 2شراب کی دکانیں بند کردی جائیں گی۔